29 اکتوبر 2012 - 20:30

بحرين ميں آل خليفہ حکومت نے شہر العکر کے محاصرے کے ساتھ ہي ملک کے مختلف علاقوں کو فوجي چھاؤني ميں تبديل کرديا ہے -

ابنا: بحرين کي حکومت مخالف سياسي جماعتوں کے رہنماؤں نے بتايا ہے  کہ آل خليفہ حکومت نے غير اعلانيہ طور پر پورے ملک ميں ايمرجنسي نافذ کردي ہے -   رپورٹوں کے مطابق جس علاقے ميں بھي پر امن مظاہرے ہوتے ہيں وہاں فورا سيکورٹي فورس اور فوج کي گاڑياں پہنچ جاتي ہيں اور عوام کو تشدد کا نشانہ بنايا جاتا ہے - رپورٹيں بتاتي ہيں کہ سيکورٹي اہلکار اور فوجي آزادنہ طور پر زہريلي آنسو گيس اور گوليوں کا استعمال کرتے ہيں -  موصولہ رپورٹوں  کے مطابق دارالحکومت منامہ اور ديگر شہروں ميں دو روز کے درميان عوام کے پر امن مظاہروں کي سرکوبي ميں بحريني اور سعودي فوجيوں نے انتہائي تشدد سے کام ليا ہے جن ميں سيکڑوں افراد زخمي ہوئے ہيں - اس کے علاوہ ملک کے اکثر علاقے سعودي اور بحريني فوجيوں کے محاصرے ميں ہيں - شہروں ، قصبوں اور ديہي علاقوں ميں داخل ہونے کے راستوں پر فوجي چيک پوسٹيں بنادي گئي ہيں جہاں بڑي تعداد ميں فوجيوں کو تعينات کرديا گيا ہے - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شہر العکر دس روز سے زائد عرصے سے سعودي اور بحريني فوجيوں کے مکمل محاصرے ميں ہے اور شہر کے اندر بھي جگہ جگہ رکاوٹيں کھڑي کردي گئي ہيں جبکہ فوجي لوگوں کے گھروں کي چھتوں پر بھي تعينات ہوگئے ہيں - اس درميان سعودي اور بحريني فوجيوں نے شہر کے اسپتالوں، پرائيويٹ پريکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے کلينک اور دواخانوں پر حملہ کرکے دوائيں تک ضبط کرلي ہيں - رپورٹيں بتاتي ہيں کہ اس شہر کے کئي بچے  خواتين اور مرد دواؤں کے فقدان کي وجہ سے جاں بحق ہوگئے ہيں -اس کے علاوہ  سعودي اور بحريني فوجيوں کي اخلاقي پستي کي بھي رپورٹيں  ملي ہيں جن ميں بتايا گيا ہے کہ فوجيوں نے خواتين پر بھي حملہ کيا ہے اور انہيں زد و کوب کرکے حجاب ہٹانے پر مجبور کيا ہے - فوجيوں نے اسي کے ساتھ شہرميں لوگوں کے گھروں پر حملہ کرکے گھروالوں کي بے عزتي بھي کي ہے اور طرفہ ستم يہ ہے کہ دنيا پر خاموشي طاري ہے، مظلوم بحريني عوام کي حمايت ميں  کہيں سے  کوئي آواز سنائي نہيں ديتي- بحرين کے شہر العکر ميں انساني الميہ رونما ہورہا ہے ، شہريوں کے بنيادي ترين حقوق کمال بے شرمي کے ساتھ پامال کئے جارہے ہيں، ليکن اس سے بھي زيادہ شرمناک بات يہ ہے کہ انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے بحرين ميں انساني حقوق کي وحشيانہ پامالي پر خاموشي اختيار کررکھي ہے -...../169